اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مارچ ۲۰۱۵ میں امریکہ اور برطانیہ کی حمایت سے سعودی عرب کی سربراہی میں جس ملٹری گٹھبندھن نے حوثیوں کو کچلنے کے مقصد کے تحت یمن میں اپنی کاروائیوں کا آغاز کیا تھا ، اس کی کاروائیوں میں اب تک دس ہزار سے زیادہ بے گناہ افراد مارے جا چکے ہیں ۔
انسانی حقوق کی بہت ساری تنظیموں نے اس گٹھبندھن کی فوجوں پر جان بوجھ کر غیر فوجیوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا ہے جب کہ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس حملے نے پورے ملک کو قحط کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے ۔
یمن کے انسانی حقوق کی تنظیم کے جنرل سیکریٹری کیم شریف نےاس انٹرویو میں بتایا : جہاں تک ہم جانتے ہیں ، اقوام متحدہ کی طرف سے اس مسئلے میں مکمل ریاکاری اور چالاکی برتی جا رہی ہے ۔ یہ پوری طرح سے منافقت ہے اور اس کا تعلق جنوبی یمن کے سمندر خاص کر باب المندب کے سیاسی جغرافیائی مفادات سے ہے ۔ سمندر میں یہ ایسا راستہ ہے جو پوری دنیا کے لیے اہم ہے ۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ یہ اتحاد بنا ہی یمن پر حملہ کرنے اور غیر فوجیوں کو قتل کرنے کے لیے تھا ، اور اقوام متحدہ کی رپورٹوں کے مطابق ۶۰ فیصدی غیر فوجی یمن میں سعودی عرب کے گٹھبندھن کے حملوں کا نشانہ بنے ہیں ۔
اس نے مزید کہا : وہ لوگ جان بوجھ کر غیر فوجی علاقوں کو نشانہ بناتے ہیں ۔ مثال کے طور پر ۸۰۰ بار مدارس کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے ، جب کہ مدارس کو کیوں نشانہ بنایا جائے ؟ ایسا لگتا ہے کہ قطعا اس بات کی ضرورت ہے کہ جہاں تک ممکن ہو بے گناہوں کو نشانہ بنایا جا ئے تا کہ وہ سعودی عرب اور اس کے چمچے صدر کے آگے گھٹنے ٹیک دیں ۔ بغیر پائلٹ کے طیاروں کا استعمال یمن کی حاکمیت اور ملک کے استقلال کی خلاف ورزی استعمال ہوتا ہے ، بین الاقوامی قوانین میں بغیر پائلٹ کے طیارے استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔
کیم شریف نے آگے کہا : لوگ کہتے ہیں کہ القاعدہ کی سرگرمی بھی مشرق وسطی میں امریکہ کے چمچے سعودی عرب کے ذریعے امریکہ کی نیابتی جنگ کا محصول ہے ۔ حال حاضر میں ہم جانتے ہیں کہ القاعدہ اور تمام وہ افراد کہ جن کا امریکہ میں ۱۱ ستمبر سال ۲۰۰۱ کے دہشت گردانہ حملوں میں ہاتھ تھا یہ وہ لوگ ہیں کہ جو سعودی عرب کے سلطنتی خاندان کے وفادار ہیں ۔ صحیح کام تو یہ تھا کہ ریاض پر حملہ کیا جاتا نہ کہ یمن پر ۔ صحیح کام تو یہ تھا کہ بغیر پائلٹ کے طیارے ریاض بھیجے جائیں نہ کہ جنوب یمن ، جیسے شبوہ ، ابین اور دوسرے حصوں کی طرف ۔ جب امریکہ کے سمندری بندوق بردار ایک ماہ پہلے شبوہ میں اترے ، تو انہوں نے ہر متحرک چیز پر گولیاں چلائیں بچوں اور عورتوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا اور ایک سمندری بندوق بردار اس کاروائی میں مارا بھی گیا ۔ یہ بین الاقوامی سوسائٹی کے لیے ایک حادثہ ہے ۔
اس نے مزید کہا : یمن کے لوگ کہتے ہیں کہ اس وقت سلامتی کونسل کے رکن ممالک کہاں ہیں ؟ کیوں وہ یمن کی حاکمیت اور اس کے استقلال کے لیے اٹھ کھڑے نہیں ہوتے ؟ جب کہ وہ جانتے ہیں کہ اس کام کے ان کے لیے بہت بڑے تجارتی مفادات ہیں ۔ اس لیے کہ یمن کی حفاظت اور اس کے استقلال اور اس کی حاکمیت کو بچانا اس بین الاقوامی راستے کی حفاظت کی خاطر سب کے فائدے میں ہے ۔ بد قسمتی سے اگر یہ حالت اسی طرح برقرار رہے تو احتمال یہ ہے کہ یہ راستہ خود بخود دہشت گردوں کی سر زمین میں بدل جائے گا اس لیے کہ سارے دہشت گرد سعودی عرب کے نمایندے اور اس کے وکیل ہیں ۔
کیم شریف نے آخر میں بتایا : دہشت گردوں کے مختلف نام ہیں ۔ افغانستان میں ان کو طالبان کہتے ہیں ۔ سومالیہ میں الشباب ، اور عربی ملکوں میں ان کو القاعدہ یا داعش کہا جاتا ہے ۔یہ سعودی عرب کے نمایندے ہیں ۔ یہ سعودی عرب کی حکومت ہے کہ جس کی خبر لینی چاہیے یمن کے جنوب میں بے گناہ غیر فوجیوں کو قتل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ یمن کے لوگ بہت دکھی ہیں ۔ خاص کر اس وقت کہ جب سینٹرل بینک صنعاء سے عدن میں منتقل ہوا تو اس سے ان کو بھاری چوٹ پہنچی اس لیے کہ یہ چیز وسیع پیمانے پر قحط کا باعث بن گئی ۔ اس وقت یمن کے ۶۰ میلین افراد قحط کا شکار ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲